Liberate Me!

-

From the flames of hell fire

From the curse of my own desire

From becoming a damage-for-hire

Make me thy, liberate me!

-

From the pain of expectations

From the lust of salutations

From suffering ill conversations

Make me thy, liberate me!

-

From the men who acts gods

From the men who look at odds

From the women desiring nods

Make me thy, liberate me!

-

From a life that hates death

From a life that cherishes wealth

From a life of vanishing health

Make me thy, liberate me!

-

From fear and from despair

From damages beyond repair

From associations whom I wear

Make me thy, liberate me!

-

From the panic of the mind

From the heart getting unkind

From unconscious self playing rewind

Make me thy, liberate me!

-

- Khawaja Bilal Hussain

--

--

-

The era of pain is ending soon

The age of love unspoken now

-

The soul is now as free as hawk

The cage of love is broken now

-

Facts and truth — tangled no more

The rage of love is frozen now

-

My pen is now being firmly held

The page of love is woven now

-

The story is written well and full

The stage of love is chosen now

-

Labors of love are done, not due

The wage of love in motion now

-

-Khawaja Bilal Hussain

--

--

-

کرے گی تجھے تجھی سے رہا

ملا دے گی تجھ سے وہ تیرا خدا

-

نہ جہاں کبھی پہنچ سکتا تھا تو

بنا ے گی وہیں پر ہی تیرا مکان

-

تاریکی میں نہ پھر بھٹکے گا تو

اندھیرے میں یہ تیری مشعل راہ

-

مٹا دے گی تجھ کو ہرانے کے بعد

نہ سانسیں، نہ خواہش، اک ٹھنڈی سی آه

-

نہ سوچوں میں دوجا، جہاں رب کی پوجا

نہ مانگے کا حوریں، بس اس کی وفا

-

جہنم یہی تھی، تھی جنت کی راہ

محبّت کی صحبت ہے وہ دعا

-

- خواجہ بلال حسین

--

--

-

صبح فکر سے شروع نہ کر کے

اس سے نصیب بھی ہل جاتے ہیں

-

اس ایمان پے چلتا رہ بس

جو لکھے ہیں، مل جاتے ہیں

-

دربار میں جیتی ریت اسی کی

جس سے دل مچل جاتے ہیں

-

دنیا کے بازار میں یارو

کھوٹے سکے چل جاتے ہیں

-

غرور کسی کو کیوں ہے کرنا

چڑھتے سورج ڈھل جاتے ہیں

-

رب جو کسی کا ہاتھ پکڑ لے

سارے غم نکل جاتے ہیں

-

محبت کی آزمائش میں یارو

ہنستے لب بھی سل جاتے ہیں

-

عشق وشق میں ڈر ڈر مرے کیوں

سچے یار یہیں مل جاتے ہیں

-

- خواجہ بلال حسین

--

--

Heaven Unwanted

-

No serious plan for a wandering spirit

No moment of silence for empty soul imparted

-

No living, no death for a lustful body

No sympathy for the faith departed

-
No suffering, no pain for a hollow being

For love is not blessed to the foul hearted

-

Only love brings the hope for despaired

And courage to travel the road less charted

-

The one that goes to a world unknown

Which, to a loveless soul, remains discarded

-

- Khawaja Bilal Hussain

--

--

-

The times now are better

The life now has changed

-

The body free from walls

In which it was tamed

-

The soul has become spirit

And the spirit being trained

-

The empty hopes now thriving

Like a hot desert being rained

-

Thoughts freed from shackles

Falsely and mischievously chained

-

A new persona is sprouting

Its slave version being framed

-

The student has become the master

Only merit cherished, famed

-

May odds remain in favor!

May sport no longer be gamed!

-

- Khawaja Bilal Hussain

--

--

-

جس شخص میں میرا قرار ہے

جہاں کہ رہا، اسے بھول جا

-

پر ایمان سے ہی جڑا ہوں میں

وہ ڈٹا ہے کے تو مت دور جا

-

یہ عقل و سوچ کی جہد نہیں

یہ معرکہ تیرے وجود کا

-

ہاں بحر ہے یہ، وہ بھی آگ کا

زیادہ سوچ مت، اور کود جا

-

گھڑے گی تپش ہی تیرا مقام

اپنے نفس و میں کو تو بھول جا

-

زیادہ کشمکش میں نہ پڑھ کبھی

آیے گا وہ، تو مت دور جا

-

صبر و شکر کی اس جنگ میں

تو یقین رکھ رب کے نور کا

-

- خواجہ بلال حسین

--

--

-

دنیا کے بازار میں اب تو

دھن کی پوجا، نیکی دشمن

-

زلزلوں کے انصاف نے کر دی

اپنی چھت، دیوار بھی دشمن

-

صحت جب دولت نا رہے تو

نیم حکیم ہے جان کا دشمن

-

فرقے میں ڈوبا دین ہے میرا

نیم ملا ایمان کا دشمن

-

بہن، بھائی، اور بستے گھرانے

وراثت بنے خاندان کی دشمن

-

اب پیسے سے چلتی ہر گھوڑی

عدالت بس لاچار کی دشمن

-

حق پے چلتے مومن کے اب

اپنی اولاد اور یار بھی دشمن

-

آنا پرستش میں جادو ٹونے

سب کا جھوٹا پیار ہے دشمن

-

الله، رسول (ص) ہی بس دو ساجن

دین کا کاروبار ہے دشمن

-

امام اور ولی گر ہاتھ نا پکڑیں

تو اپنا اندر باہر بھی دشمن

-

جب الله اپنا حافظ ہو جایے

بےنام نشان، ناکام ہے دشمن

-

میں ہوں کیوں اس وہم میں رہتا

جان واردی جس پے، محبّت کا دشمن

-

-خواجہ بلال حسین

--

--

Khawaja Bilal Hussain

Khawaja Bilal Hussain

I am a lost soul searching my true spirit through understanding leadership from everyday heroes